My Trade Union

ایچ آر سی پی کےزیر اہتمام کراچی میں نیشنل لیبر کانفرنس کا انعقاد ۔کراچی( رپورٹ وسیم جمال )۔
URDU

ایچ آر سی پی کےزیر اہتمام کراچی میں نیشنل لیبر کانفرنس کا انعقاد ۔کراچی( رپورٹ وسیم جمال )۔

Jul 5, 2023

اتوار 2023 کو آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آرسی پی) ایک نیشنل لیبر کانفرنس منعقد کی گئی جس کا موضوع ” تمام افراد کے لیے پروقار مزدوری اور با عزت روزگار کے حق کا تحفظ” تھا
اسد اقبال بٹ، شریک چئیرمین HRCP نے کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ٹھیکداری نظام نے پاکستان میں مزدوروں کی تحریک کو متاثر کیا ہے۔ ٹھیکداری نظام نے مزدروں کو حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔ محنت کشوں کے لیے بنائے گئے قوانین پر عمل کروانے کی ضرورت ہے۔ مزدور حقوق کے لیے ہمیں خود متحد ہو کر جدوجہد کرنی ہوگئی۔
محترمہ فرح ضیاء ڈائریکٹر HRCP نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں محنت کش آج بھی مسائل کا شکار ہے بھٹہ مزدوروں کو سماجی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ کسانوں سے جبری کام لینے کی شکایات ہیں۔ ٹکسٹائل سے لے کر سٹرک پر کام کرنے والا مزدور مشکلات کا شکار ہے۔ HRCP نے محنت کشوں کے حالات پر ریسرچ کی ہے تا کہ پاکستان میں مزدوروں اور ان کے حقوق کا ازسر نو ادارک ہو سکے، ہم اس تحقیق کو شائع بھی کریں گے۔
بعد ازاں تین مختلف پینل کے مختلف ماہرین نے اپنے اسٹیڈی کو شرکاء کے سامنے پیش کیا
پاکستان میں محنت کشوں کے حقوق کی صورتحال، فیلڈ سے ملنے والے بنیادی حقائق کے موضوع کی نظامت محترمہ ماہین پراچہ نے کی جب کہ پینل میں شامل عمیر رشید نے محنت اور محنت کشوں کے حقوق کے ازسر نو ادارک پر اپنی تحقیق پیش کی، ڈاکٹر فہد علی نے لا حاصل ماہی گیری، بلخصوص سندھ اور بلوچستان میں ماہی گیروں کے حالات پر اپنا تحقیقی
مکالہ پیش کیا جب کہ مشہور مصنف و ناقد جناب طلحہ قیصر نے ایک خاکروب زندگی پر “تہمت اور قربانی” کے نام سے کہانی پیش کی
باعزت روزگار کا حق کے موضوع پر دوسری نشست میں شامل ڈائریکٹر PILER کرامت علی نے کہا کہ پاکستان اس خطے میں واحد ریاست ہے جس نے یہ طے کیا ہوا ہے کہ یہاں ٹریڈ یونین کو منظم نہیں ہونے دینا ہے، جہاں مزدور تحریکیں موجود نہیں ہوتیں یا کامیاب نہیں ہوتی ہیں ان معاشروں میں جمہوری تحریکیں بھی کامیاب نہیں ہوتی ہیں۔ سعید بلوچ جنرل سیکرٹری، پاکستان فشر فوک فورم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماہی گیروں کو انتہائی پسماندہ مزدوروں کے گروپ میں شمار کیا جاتا ہے۔پاکستان میں ماہی گیروں کی تربیت کا کوئی ادارہ موجود نہیں ہے۔ ماہی گیروں کا EOBI اور سوشل سیکورٹی کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ سندھ ایمپلائز سوشل انسٹی ٹیوشن کے حوالے سے مسلسل یہ بات سامنے آرہی ہے کہ محنت کشوں کے کنٹری بیوشن میں بڑے پیمانہ پر کرپشن کی جارہی ہے، اخبارات و میڈیا میں خبروں کے باوجود حکومت نے ابتک کوئی نوٹس نہیں لیا ہے۔ سیسی کے فنڈ کے بڑے حصہ کو رجسٹرڈ محنت کشوں کے بجائے تنخواہوں و دیگر مد خرچ کیا جا رہا ہے۔ سیکورٹی سیکرٹری بلوچستان کول مائینگ کمیٹی آصف خٹک اور محترمہ سبھاگی بھیل نائب صدر، ایگریکلچرل جنرل ورکرز یونین سندھ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا
تیسری نشست کا موضوع محنت سے متعلق زمینی حقائق، محنت کو عزت دلانے کی جدوجہد تھا جس کی نظامت کے فرائض HRCP کے شریک ڈائریکٹر طاہر حبیب نے انجام دئیے اس موقع پر حنیف رامے، جنرل سیکرٹری، متحدہ لیبر فیڈریشن، محترمہ زہرہ خان جنرل سیکرٹری ہوم بیسڈ ورکرز فیڈریشن نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا
محترم حارث خلیق، سیکرٹری جنرل، HRCP نے متفقہ قرارداد اور مطالبات کا منشور پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ہمیشہ پل کا کردار ادا کیا ہے۔ اور لوگوں کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔
پروگرام کے اختتامی کلمات معروف صحافی حسین نقی نے ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر مزدور مخلص ہوں تو یونین سازی کرسکتے ہیں۔ بغیر تنظیم سازی کے کچھ نہیں ہوسکتا
پروگرام میں اخر میں قاضی خضر وائس چیئر، HRCP سندھ نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں جڑنے اور متحد ہونے کی ضرورت ہے…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *