My Trade Union

کم از کم اجرت نہیں باعزت اجرت ناگزیر ہے۔   تحریر ۔۔۔ظفر پاشا
URDU

کم از کم اجرت نہیں باعزت اجرت ناگزیر ہے۔ تحریر ۔۔۔ظفر پاشا

Jul 5, 2023

مجھےکمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کے خصوصی دعوت نامہ پر اس شاندار اور تاریخی پروگرام میں شرکت کا موقع ملا۔ دس بجے سے پہلے ہی رجسٹریشن شروع ہو چکی تھی جبکہ روایتی طور پر اتوار کو اتنی جلدی پروگرام شروع ہونا ممکن نہیں ہوتا۔ سامعین اور حاضرین کے بے پناہ جوش اور خروش، ریسرچر خاص طور پر خواتین کے کام اور ان کی کامیاب صلاحیتیں کر میرے جیسے عمر رسیدہ قنوطی پر امید ہوکر چراغ روشن کرنے آگے بڑھنے لگے۔
جہاں اتنی عمدہ کارکردگی تھی وہاں ایک کمزوری کی نشاندہی نہایت اہم اور ضروری ہے۔
ہمارا سب کا مقصد سب کے لئے پروقار مزدوری اور باعزت روزگار کے حق کا تحفظ کی کامیاب جدوجہد کو اندھیری بند گلی میں ایک مقام پر ختم ہو تے محسوس کیا۔
وہ ہے 60 سال کی عمر۔ اس کے بعد کیا ہوگا۔ جب مزدور، ملت کے یہ معمار کسی محنت مشقت کے قابل نہیں رہیں گے طرح طرح کی بیماریوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے بچے اپنی دنیا میں مگن ہونگے تب انہیں خود اور اپنی شریک حیات کے ساتھ باعزت زندگی گزارنے کے لئے کیا کرنا ہوگا اس وقت جو فرسودہ اور نا کارہ سوشل پینشن (EOBI) اور سوشل سیکورٹی کے صوبائی ادارے، WWF کے ادارے ہم نے بنا تو رکھے ہیں ان کے انتظام میں تسلیم کئے تیسرے ستون یعنی مزدوروں کو اپنے مسائل کی جدوجہد سے فرصت نہ ملنے کے باعث اپنے پینشنرز ساتھیوں کی خدمات کے لئے اتنا وقت نہیں نکال پاتے جن کی اس وقت ضرورت ہے

جس طرح اب مزدور کی تعریف میں تبدیلی ارہی ہے، کم ازکم اجرت کے بجائے باعزت اجرت کو بین الاقوامی طور پر تسلیم کیا جارہا ہے اسی طرح عمر رسیدہ افراد کے بین الاقوامی انسانی حقوق، آئی ایل کے کنونشن سامنے رکھتے ہوئے پینشنرز اور سینٸیر سٹیزن کے حقوق کی تنظیموں کو سرمایہ دار، اشرافیہ اور حکومت کو تیسرے ستون کا حصہ تسلیم کرنا ہوگا
مزدوروں کی فیڈریشنز اور تنظیموں کو اپنے روزمرہ کے معمولات پر بھرپور توجہ دینی ہوگی اور سوشل، ریاستی پینشن، سوشل سیکورٹی کے معاملات کو پینشنرز اور انکی قائم تنظیموں پر انحصار کرنا ہوگا۔ پینشنرز کو اپنی تنظیم سازی، مسائل کے حل، شکایت کے ازالے اور بہتر زندگی گزارنے کے طریقے ، اکیلے پن کو دور کرنے وغیرہ کے مسائل کے حل خود سیکھنے ہوں گے اور ان پر عملدرآمد کی قانونی حیثیت تسلیم کروانی ہوگی
امید واصق ہے یہ انقلاب بھی جلد کامیاب ہوگا اور ہم بھی تہذیب یافتہ کہلانے ممالک کے برابر ی کے مستحق ہونگے۔ *

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *