My Trade Union

سندھ ہائی کورٹ نے سیسی میں تمام تقرریوں پر اسٹے آرڈر جاری کر دیا
Latest News URDU

سندھ ہائی کورٹ نے سیسی میں تمام تقرریوں پر اسٹے آرڈر جاری کر دیا

Jul 27, 2023

کراچی ( ٹریڈ یونین نیوز) *سیسی یوناءیٹڈ اسٹاف یونین کے کیس کی پیروی بیرسٹر فروخ نسیم کررہے تھے، تمام اپائنٹمنٹ پروسیس ریکارڈ بھی سندھ ہائی کورٹ میں طلب کرلیا گیا*

محکمہ محنت کے ذیلی ادارے سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن میں سندھ ہائیکورٹ کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 1600 سے زائد غیر قانونی بھرتیاں کی جارہی تھیں

سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن میں عرصہ دراز سے کرپشن اور بدعنوانی کے حوالے سے خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔

محنت کشوں کے نام سے قائم اس ادارے میں جو محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لیے قائم کیا گیا ہے اور جو صوبائی حکومت سے کوئی گرانٹ نہیں لیتا بلکہ آجروں کی جانب سے دیئے کنٹری بیوشن سے چلتا ہے۔

اس وقت اس ادارے میں 2300 ملازمین کام کررہے ہیں جن پر کل بجٹ کا 70 سے زائد اخراجات تنخواہوں کی مد کیا جا رہا ہے۔ اگر اس ادارے میں مزید دو ہزار سے زائد بھرتیاں کی گئیں تو یہ ادارہ شاید اپنے ملازمین کو تنخواہیں تک ادا نہ کرسکے۔

صوبائی محکمہ محنت کے ادارے سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن میں غیر قانونی بھرتیوں کا کاروبار عروج پر تھا

اخبارات مسلسل خبریں شائع ہورہی تھیں کہ ایک ارب سے زائد میں نوکریاں فروخت کرنے کی جارہی ہیں صرف گریڈ 17 کے ڈاکٹرز کی 270 سے زائد آسامیاں فروخت کرنے کی خبریں آرہی تھی

یاد رہے ان بھرتیوں سے قبل SESSI میں کل 2300 ملازمین کام کرتے تھے موجودہ بھرتیوں کے بعد اس ادارے میں ملازمین کی تعداد 4500 سے زائد ہو جائے گئی۔ ادارے کے فنانس سے متعلق سینئر افسر کا کہنا ہے کہ آئندہ ایک سال بعد اتنے ملازمین کو تنخواہیں دینا نا ممکن ہوگا یاد رہے کہ اس وقت سندھ سوشل سیکورٹی کے 1500 سے زائد ریٹائرڈ ملازمین کو ڈیڑھ ارب روپے سالانہ پینشن کی مد میں بھی دیئے جارہے ہیں۔

لگتا ہے کہ یہ ادارہ بھی اسٹیل مل اور PIA کی طرح غیر ضروری بھرتیوں کی وجہ سے بند ہو جائے گا۔

اس لوٹ مار میں جہاں سیسی کی گورننگ باڈی کے ممبران نے ہاتھ صاف کیا ہے۔ ڈائریکٹرز نے اپنا حصہ بقدر حبثہ لیا ہے، وہیں سندھ سوشل سیکورٹی ہیڈ آفس کے متعلقہ اسٹاف نے بھی خوب لوٹ مار کی ہے۔

موجودہ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن زاہد بٹ کے پرسنل سیکرٹری اللہ دتہ المعروف اے ڈی صاحب نے جو سیسی میں گریڈ ایک میں اسٹنٹ کک بھرتی ہونے تھے وہ آج غیر قانونی طور پر گریڈ 17 میں موجود ہیں، انھوں نے پہلے اپنے دو بیٹوں کو غیر قانونی طور پر بھرتی کیا تھا جن میں سے ایک سائیٹ سرکل اور دوسرا سائیٹ ایسٹ میں تعینات ہے۔

موجودہ بھرتیوں میں بھی انھوں نے اپنے مزید دو غیر قانونی بھرتیاں کی ہیں اور اپنے ایک بیٹے اور ایک داماد کو ادارے میں بھرتی کروا لیا ہے۔

پیپلز اسٹاف یونین کے صدر احمد نواز نے اپنے چار بیٹوں، ایک بیٹی اور داماد کو نوکری دلوائی ہے،

اسی طرح ہیڈ آفس کے فرمان سولنگی نے اپنی دو بھائیوں، جبار سولنگی ایڈمن کلرکہیڈ افس نے نے اپنے 7 قریبی رشتہ دار, رحیم جتوئی کلرک ہیڈ افس نے چار بھرتیاں, نادر کنسارو ڈائریکٹر ویجیلنس اینڈ سروے سیل نے اپنے خاندان کے تقریباً 25 افراد، ریٹائرڈ آڈٹ آفیسرز بخشل سولنگی نے اپنی برادری کے 20 افراد، ڈپٹی ڈائریکٹر مجیب صدیقی اور مدد علی نے 4افراد، ڈپٹی ڈائریکٹر مخدوم جھانزیب نے 4, ڈائریکٹر علی احمد منگی نے 3, شاہد علی میمن سوشل سیکورٹی آفیسر نے 5 جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر آصف داؤد نے اپنے بیٹے 3 افراد کو غیر قانونی طور ادارے میں بھرتی کروایا ہے

سیسی میں ایسا لگ رہا ہے کہ جنگل کا قانون نافذ ہے، گورننگ باڈی کی وہ میٹنگ جس کی بنیاد پر یہ اپائنٹمنٹ ہورہے ہیں یعنی 16 جون کو ہونے والی سیسی گورننگ باڈی کی 165 ویں میٹنگ کے منٹس ابھی تک ممبر گورننگ باڈی زاہد سعید ، ناصر منصور نے اپرول نہیں دی ہے جس کے بعد یہ منٹس کوٹری سے ممبر گورننگ باڈی سیسی خلیل بلوچ کو بھیجنے جائیں گئے، اہم

بات یہ ہے کہ 15 جولائی کے بعد سیسی کی گورننگ باڈی اپنی معیاد پوری کر کے ختم ہوچکی ہے اور میٹنگ میں جا میں ان بھرتیوں کی باقاعدہ اجازت لینی تھی اس میں 10 میں سے 5 ممبر گورننگ باڈی شریک نہیں ہوئے جن میں مزدور رہنما کرامت علی، ناصر منصور جب کہ ایمپلائز کے نمائندے زاہد سعید اور زبیر موتی والا بھی شامل تھے

بغیر قانونی منظوری کے سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی کے کمشنر سلیم رضا اور وائس کمشنر سیسی صفدر حسین رضوی نے کیسے ان بھرتیوں کے لیے اپائنٹمنٹ لیٹر جاری کرنے کی منظوری دی یہ حیرت انگیز بات تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *