My Trade Union

ہماری جمہوریت اور ٹریڈ یونین۔۔۔۔۔ تحریر ۔۔۔ ندرت بلند اقبال
Latest News URDU

ہماری جمہوریت اور ٹریڈ یونین۔۔۔۔۔ تحریر ۔۔۔ ندرت بلند اقبال

Jul 27, 2023

بہت منظم طریقے سے نظام نےایک طرف طلبہ تنظیموں پر پابندی سے سیاسی نرسری ختم کردی جہاں سے عوامی قیادت وجود پاتی تھی

دوسری طرف ٹریڈ یونینز کو ٹھیکداری نظام کے زریعے تقریبآ ختم کرکے معاشرے کے مزدوروں جیسے سب سے بڑے پیداواری حصے کو حقوق سے محروم کر کے غلامانہ زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا

تیسری طرف سرکاری اداروں میں یونینز کی سرپرستی کر کے اکثریت میں سرکاری کارکنان کی ایک ایسی فوج تیار کرلی گئ جو جماعتوں کیلیے ناصرف سرمایہ بلکہ جلسہ گاہوں کے لے سر بھی فراہم کرتی ہے

ہمارا معاشرہ ایک ان دیکھی مافیا کی بھرپور گرفت میں چلا گیا ہے جہاں ایک خاص طبقہ وجود پا گیا ہے ۔ یہ طبقہ معاشرے کی اشرافیہ کے چند استحصالی عناصر کا مجموعہ ہے جن میں سرکاری عہدے دار ، سیاستدان، قبائیلی سردار، افسر شاہی، خود ساختہ مذہبی ٹھیکدار ، تاجر و صنعتکار شامل ہیں ۔ حالانکہ ان سب کی مجموعی تعداد زیادہ نہیں مگر اسقدر با اثر اور سازشی ہیں کہ پورا معاشرہ انکے اشاروں پر چلتا اور انکے مفادات کا نگہبان رہتا ہے ۔

اس قسم کے حالات کو تبدیل کرنا یا ان میں بہتری لانا سیاسی جماعتوں کا کام ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں کا سیاسی نظام رفتہ رفتہ پوری طرح اس استحصالی نظام کا حصہ بنتا چلا گیا اور آج مکمل طور اس مافیا کے مفادات کی چوکیداری کر رہا ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ طلبہ و مزدور تنظیمیں ہمارے معاشرے میں لاقانونیت اور بے راہ روی کے خلاف پہلی دفاعی ڈھال ہوا کرتی تھیں جنکی وجہ سے ظلم و استبداد کی حامل قوتوں کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ ہر تعلیمی ادارے میں طلبہ اور فیکٹریوں میں مزدور تنظیمیں موجود تھیں حالانکہ ان تنظیموں میں سے اکثریت کسی نا کسی طور کسی سیاسی جماعت سے متعلق ہوتی تھیں لیکن کیونکہ یہ سب عوامی سطح کی تنظیمیں ہوتی تھیں اسلیے یہ اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کو عوامی امنگوں اور مفادات کے خلاف نہیں جانے دیتی تھیں کیونکہ ان ذیلی تنظیموں کو عوام کا براہ راست روزمرہ کے معاملات میں سامنا کرنا پڑتا اور عوام کو جواب دینا ہوتا تھا ۔ اسطرح معاشرے میں موجود سیاسی نظام کسی حد تک عوامی امنگوں کی بات کرتا ہوا نظر آتا تھا۔

مگر ضیا الحق مارشل لا نے سب سے پہلے طلبہ تنظیموں پر پابندی لگا کر ان نۓ تعلیم یافتہ عوامی سیاستدانوں کے نظام میں داخلے کے امکانات کو یکسر ختم کردیا جو گلی کوچوں کے مسائل و امنگوں کو جانتے تھے ۔ پھر یہ مارشل لا دوسرے عمل میں مزدور تنظیموں پر حملہ آور ہوا اور مختلف حربوں کے زریعے ٹریڈ یونینز کو یا تو ختم کردیا گیا یا انکو اسقدر بے اثر کردیا گیا کہ اگر کہیں نام کی موجود بھی ہیں تو بغیر طاقت کے ہیں۔ اس ضمن میں ایک ٹھیکیداری نظام کے زریعے وقت کے ساتھ ساتھ یونینز سازی کو قصہ پارینہ بنادیا گیا۔ دوسری طرف NGOs کے زریعے مزدور لیڈروں کی خریداری کر کے انکو اس قیادت سے محروم کردیا گیا جو کل تک مزدوروں کے مسائل پر آواز اٹھاتے تھے۔ آج جن اداروں میں یونینز موجود بھی ہیں تو وہ اپنی بقا کی آخری جنگ لڑ رہی ہیں اور موجود حالات میں انکا خاتمہ یقینی ہے۔

معاشرے میں موجود سیاسی نظام نے جو کہ کل تک ان طلبہ اور مزدور طبقات کا حامی تھا اس سارے منفی عمل میں سواۓ لفاظی کہ کچھ نہیں کیا ۔ کیونکہ اس پورے سیاسی نظام کو بھی اپنے مفادات عزیز تھے ۔ یہ سیاسی نظام خود اب ٹھیکداری نظام کا مرہون منت بن چکا ہے ۔ اب سیاسی قاٸدین عوام کی طرف دیکھنے کی بجاۓ اس طرف دیکھنے لگ گۓ ہیں جہاں طاقت کا ارتکاز موجود ہے۔ اب اس سیاسی نظام میں قایدین اپنی نظریاتی و عملی جدو جہد کے زریعے نہیں بلکہ اپنی نسبت ، وسائل اور رنگ بدلنے کی صلاحیتوں کی بنا پر شامل ہوتے ہیں۔

کسی بھی نظام کو چلانے کیلیے سرماۓ کی ضرورت پڑتی ہے ۔ 1990 اور اس سے قبل کے حالات میں یہ سرمایہ عام طور پر کارکنان یا عوامی چندے کے زریعے اکھٹا کیا جاتا تھا ۔ لیکن اس میں ایک قباحت یہ تھی کہ عوام چندہ دیتے وقت سوال کرتی تھی اور کارکن چندہ دینے کے بعد اپنی جماعت کا اسٹیک ہولڈر بن جاتا تھا اس صورت میں اسکے پاس بھی سوال کا حق آجاتا تھا۔ لہذا گلی گلی گھوم کر کشکول دراز کرنے یا کارکن کو چندے کیلیے پریشان کرنے کی بجاۓ نظام نے اسکا ایک ایسا حل تلاش کیا جس سے سانپ بھی مر جاۓ اور لاٹھی بھی بچ جاۓ۔

سرمائے کی فراہمی کا حل سیاسی نظام نے سرکاری اداروں میں مداخلت سے نکالا ۔ جہاں طلبہ تنظیموں اور ٹریڈ یونینز کی کمر توڑی گئ وہاں ہر سرکاری ادارے میں تقریباً ہر سیاسی تنظیم نے یونین سازی کو فروغ دیا٦ اپنی اپنی بغل بچہ یونینز کے زریعے ان اداروں کو قابو میں کیا جاتا رہا اور آج ہر سرکاری ادارے میں سیاسی یونینز موجود ہیں جو اپنی جماعتوں کیلیے سرماۓ کا انتظام ان اداروں کے وسائل کے زریعے کرتی ہیں ۔ ان یونینز میں باوجود سیاسی اختلافات کے ایک غیر معمولی اتفاق موجود ہوتا ہے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کے ان اقدامات کو کبھی منظر عام پر نہیں لاتا جن سے ادارے کے وسائل لوٹے گۓ ہوتے ہیں ۔

ان یونینز کے کارکنان کیونکہ اپنی اپنی جماعتوں کو سرماۓ کی شکل میں زندگی فراھم کرتے ہیں لہذا وہ جماعتیں انکو ہر قسم کی قانونی و غیر قانونی سہولیات فراہم کرتی ہیں ۔ جسمیں مخصوص نشستوں پر پوسٹنگز ، کام نا کرنے کی چھوٹ بھی شامل ہے ۔ یہ کارکنان ہر قسم کی قانونی جواب دہی سے ماورا مقدس گاۓ سمجھے جاتے ہیں۔ اس سب کا لازمی اثر سرکاری اداروں کی نا اہلیت اور بربادی کی صورت میں آج پورا معاشرہ بھگت رہا ہے ۔ ان یونینز کے کارکنان کیونکہ کسی جماعت کے کارکن بھی ہوتے ہیں اسلیے یہ اپنی اپنی جماعتوں کی جلسہ گاہوں اکو بھرنے کے زمہ دار بھی ہوتے ہیں جنمیں یہ اداروں کے ملازمین سے لیکر اپنے اپنے علاقوں اور خاندانوں میں موجود لوگوں کو مختلف لالچ اور بہانوں سے لیکر پہنچتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سرکار خواہ وہ کوئی بھی ہو ہمیشہ سرکاری ملازمین کی مراعات و تنخواہوں پر خاص نظر کرم رکھتی ہے کیونکہ فی زمانہ ہر جماعت صرف سرکاری کارکنان کے سہارے ہی اپنا وجود قائم رکھے ہوۓ ہے۔

اس ساری بحث سے پورے نظام کی بربادی عیاں ہوتی ہے کہ بہت منظم طریقے سے نظام نےایک طرف طلبہ تنظیموں پر پابندی سے سیاسی نرسری ختم کردی جہاں سے عوامی قیادت وجود پاتی تھی جو عوامی امنگوں اور مسائل سے آگاہ ہوتی تھی تو دوسری طرف ٹریڈ یونینز کو ٹھیکداری نظام کے زریعے تقریبآ ختم کرکے معاشرے کے مزدوروں جیسے سب سے بڑے پیداواری حصے کو حقوق سے محروم کر کے غلامانہ زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا تیسری طرف سرکاری اداروں میں یونینز کی سرپرستی کر کے اکثریت میں سرکاری کارکنان کی ایک ایسی فوج تیار کرلی گئ جو جماعتوں کیلیے ناصرف سرمایہ بلکہ جلسہ گاہوں کیلیے سر بھی فراہم کرتی ہے جس سے ادارے اپنی عوامی خدمات سے دور ہوکر صرف سیاسی جماعتوں کے ذیلی دفاتر بن کر رہ گۓ ہیں۔

ان حالات سے نکلنے کے دو ہی حل سمجھ میں آتے ہیں ایک تو کوئ معجزہ رونما ہوجاۓ جسکے امکانات نا ہونے کے برابر ہیں دوسرا کوئ بڑا سانحہ جو اس معاشرے کو جھنجھوڑ کر اصلاح براۓ بقا کے راستے پر ڈال دے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *