My Trade Union

ورکرز ویلفیٸر بورڈ 2023.2024 کا بجٹ پیش کردیا گیا
URDU

ورکرز ویلفیٸر بورڈ 2023.2024 کا بجٹ پیش کردیا گیا

Jul 31, 2023

کراچی ( ٹریڈ یونین ) ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کا مالی سال 2023-24 کے لیے 21 ارب 56 کروڑ 18 لاکھ روپے کا ریکارڈ اضافی بجٹ منظور کر لیا گیا ہے ، جس میں انتظامی اخراجات کم کرکے ورکرز کی فلاح و بہبود ، ترقیاتی کاموں اور تعلیم کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے ۔ یہ بجٹ سندھ کے وزیر محنت و افرادی قوت اور ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کی گورننگ باڈی کے چیئرمین سعید غنی کی صدارت میں ہونے والے گورننگ باڈی کے اجلاس میں منظور کیا گیا ۔ اجلاس میں سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ سید صالح جمانی ، ارکان گورننگ باڈی حبیب الدین جنیدی ، رحمت اللہ سرکی ، علی محمد میمن ، شاہنواز علی شورو ، شیخ عمر ریحان ، کنور ضیاء الرحمن ، ڈائریکٹر جنرل ایڈمن شہلا کاشف ، ایڈمنسٹریٹو آفیسر شبیر چاچڑ ، ڈائریکٹر فنانس ماجد شیخ اور ڈائریکٹر ورکس سید مظفر علی شاہ شریک تھے ۔ اجلاس میں گزشتہ گورننگ باڈی کے فیصلوں کی منظوری بھی دی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق مالی سال 2023-24 کے لیے بورڈ کے بجٹ میں آمدنی کا تخمینہ 38 ارب 10 کروڑ 75 لاکھ روپے جبکہ اخراجات کا تخمینہ 16 ارب 54 کروڑ 57 لاکھ روپے لگایا ہے ۔ اس طرح بورڈ کا سرپلس بجٹ ریکارڈ 21 ارب 56 کروڑ 18 لاکھ روپے ہے ۔ بجٹ میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں انتظامی اخراجات میں ایک ارب ایک کروڑ 66 لاکھ روپے کی کٹوتی کی گئی ہے ۔ گزشتہ مالی سال کے دوران انتظامی اخراجات کا تخمینہ 4 ارب ایک کروڑ 56 لاکھ روپے لگایا تھا جبکہ نظرثانی شدہ بجٹ ایک ارب 39 کروڑ روپے تھا ۔ رواں مالی سال کے لیے انتظامی اخراجات کا تخمینہ 2 ارب 99 کروڑ 90 لاکھ روپے لگایا گیا ہے ۔ بجٹ میں ورکرز کی فلاح و بہبود کے لیے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں ریکارڈ ایک ارب 36 کروڑ 36 لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ گزشتہ مالی سال میں فلاحی اخراجات کا تخمینہ 2 ارب 16 کروڑ 44 لاکھ روپے لگایا گیا تھا جبکہ رواں مالی سال کے لیے یہ بجٹ 3 ارب 52 کروڑ 80 لاکھ روپے رکھا گیا ہے ۔ ترقیاتی بجٹ میں 39 کروڑ 66 لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیاہے ۔ گزشتہ سال ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 4 ارب 34 کروڑ 92 لاکھ روپے تھا جبکہ رواں سال ترقیاتی اخراجات کی مد میں 4 ارب 74 کروڑ 58 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ انتقال کر جانے والے ورکرز کی ڈیتھ گرانٹس کے لیے 90 کروڑ روپے ، ورکرز کی بیٹیوںکی شادی کے لیے گرانٹ کے لیے 80 کروڑ روپے ، ورکرز کے بچوں کو میرٹ پر اسکالر شپ کے لیے 40 کروڑ روپے ، ان بچوں کی اعلی تعلیم کے لیے انڈوومنٹ فنڈ کے لیے 2 ارب روپے ، لیبر کالونیز میں پانی کی فراہمی کے لیے 1 کروڑ روپے اور ورکرز کو حج کرانے کے لیے ایک کروڑ 80 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ بجٹ میں جاری ترقیاتی اسکیموں کے لیے 65 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ اس بجٹ سے ٹنڈو محمد خان میں ورکرز کے لیے 256 فلیٹس جبکہ لیبر کالونی کوٹڑی میں 1504 چار فلیٹس کی تعمیر مکمل کی جائے گی ۔ بجٹ میں 19 نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 3 ارب 73 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ ان نئی ترقیاتی اسکیموں میں ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کے مختلف اسکولز اور کالجوں کی بحالی اور مرمت ، نیو لیبر کالونی حیدر آباد میں 1504 فلیٹس کے لیے پانی کی فراہمی ، بن قاسم انڈسٹریل ایریا کراچی میں لیبر سٹی کے لیے 4096 فلیٹس کی تعمیر ، ڈہرکی میں لیبر سٹی کے لیے 2048 فلیٹس کی تعمیر ، ضلع ٹنڈووالہیار میں لیبر سٹی کے لیے 256 فلیٹس کی تعمیر ، لاڑکانہ اور سکھر میں ریجنل دفاتر کی تعمیر ، خیرپور میں ہائی اسکول کی تعمیر ، 6 انڈسٹریل ہومز کی بحالی و مرمت ، 5 سیکرٹریٹ ٹریننگ سینٹرز کی بحالی و مرمت اور دیگر اسکیمیں شامل ہیں ۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشنز ( سیسی ) کی طرح سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں بھی سوئپرز کا گریڈ 1 سے بڑھا کر گریڈ 4 کر دیا جائے گا ۔ اس حوالے سے بورڈز کے رولز میں ترامیم کی جائیں گی ۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بورڈ کے افسران کی ٹریننگ کے لیے باقاعدہ پالیسی بنائی جائے گی ۔ اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی ، جو اپنی سفارشات مرتب کرے گی ۔ یہ سفارشات بورڈ کی گورننگ کے آئندہ اجلاس میں منظور کی جائے گی ۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی کے پیش نظر بورڈ کی پرانی اور ناقابل استعمال گاڑیاں فروخت کی جائیں گی اور ان سے حاصل ہونے والی رقم سے نئی گاڑیاں خریدی جائیں گی ۔ گاڑیوں کے حوالے سے سندھ حکومت کی پالیسیوں پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا ۔ اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر و چیئرمین گورننگ باڈی سعید غنی نے کہاکہ میں تمام گورننگ باڈی کے ارکان کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے اپنی اس مدت کے دوران ورکرز ویلفیئر بورڈ اور ورکرز کی فلاح و بہبود کے لیے ہونے والے تمام اجلاسوں میں اپنی بھرپور شرکت کی اور صوبے کے محنت کشوں کے لیے قابل قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا منشور یہی ہے کہ محنت کشوں کو زیادہ سے زیادہ مراعات فراہم کی جائیں اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے ۔ سندھ میں ورکرز کی فلاح و بہبود کے لیے جو اقدامات کئے گئے ہیں ، وہ پارٹی کی قیادت کے ویژن کے مطابق ہے اور ان کی کہیں اور مثال نہیں ملتی ۔ انہوںنے کہا کہ ہم ورکرز کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *