My Trade Union

سندھ سوشل سیکورٹی میں سیکنڑوں غیر قانونی عارضی ملازمین  کو  سندھ ہائیکورٹ کے احکامات کے برخلاف کنفرم کرنے کا منصوبہ
URDU

سندھ سوشل سیکورٹی میں سیکنڑوں غیر قانونی عارضی ملازمین کو سندھ ہائیکورٹ کے احکامات کے برخلاف کنفرم کرنے کا منصوبہ

Aug 6, 2023

کراچی (رپورٹ شاہد غزالی) محکمہ محنت سندھ کے ادارے سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے آخری روز 300 سے زائد غیر قانونی طور پر بھرتی کئے گئے ملازمین کو ریگولائز کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔  مصدقہ اطلاعات کے مطابق 8 اگست بروز منگل کو سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کی گورننگ باڈی کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا جا رہا ہے۔ جس میں گریڈ دو سے گریڈ سولہ تک کے 89 ڈیز کے لیے بھرتی کئے جانے والے عارضی ملازمین جن کو بغیر اشتہار، ٹیسٹ اور انٹرویو بھرتی کیا گیا ان تمام ملازمین کو ریگولائز کیا جائے گا۔ ان ملازمین میں 40 سے زائد وہ ملازمین بھی شامل ہیں جنھیں کرونا کی وباء کے نام پر وزیر محنت کے کوآرڈینیٹر کی ایماء پر بھرتی کیا گیا تھا۔ پٹیشن نمبر 5343/21 میں معزز سندھ ہائی کورٹ نے ان ہی 89 ڈیز کے ملازمین کے کیس میں 6 مارچ 2023 کو فیصلہ دیا تھا کہ ان تمام اسامیوں کو پہلے اخبار میں مشتہر کیا جائے اور ٹیسٹ اور انٹرویو کے بعد میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں بعدازاں گورننگ باڈی کی نے اپنی 13 اپریل 2023 کو منعقد ہونے والی اپنی 164ویں میٹنگ میں بھی ان ملازمین کو کنفرم کرنے سے منع کردیا تھا۔ اور ادارے کی انتظامیہ کو ہائی کورٹ کی احکامات کی روشنی میں تقرریاں کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن 2 اگست کو نئی گورننگ باڈی سیسی کے نوٹیفکیشن کے بعد اچانک سیسی انتظامیہ نے اس آرڈر کو ریکارڈ سے غائب کردیا ہے اور سیسی کی موجودہ انتظامیہ جھوٹی سچی کہانی بنا کر نئی گورننگ باڈی سے ان ملازمین کو غیر قانونی طور پر ریگولائز کروانے جا رہی ہے۔ دوسری جانب ممبران گورننگ باڈی کو توہین عدالت کا مرتکب کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *