My Trade Union

سیسی میں کرپشن کے معاملات میں ہونے والی انکوائری پر پیش رفت۔۔   محکمہ اینٹی کرپشن 20ستمبر کو عدالت کو اگاہ کرے گا۔
URDU

سیسی میں کرپشن کے معاملات میں ہونے والی انکوائری پر پیش رفت۔۔ محکمہ اینٹی کرپشن 20ستمبر کو عدالت کو اگاہ کرے گا۔

Aug 12, 2023

کراچی (ٹریڈ یونین ) ہفتہ کے روز عدالت میں محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سے انوسٹیگیشن آفیسر انسپکٹر صبغت اللہ شیخ اور سرکل آفیسر شاہنواز راہپوٹو پیش ہوے اور انھوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ چیف سیکرٹری سندھ نے محکمہ انٹی کرپش کو سندھ سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کے 12 افسران اور ایک ممبر گورننگ باڈی کیخلاف ایک ارب 30 کڑوڑ سے زائد کی کرپشن کی کارروائی کی باقاعدہ اجازت دیدی ہے۔ جن میں محمد خان ابڑو ممبر گورننگ باڈی سیسی، ڈاکٹر سعادت میمن ڈائریکٹر پروکیورمنٹ، زاہد بٹ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن، میڈیکل ایڈوائزر سیسی ڈاکٹرشاہ محمد نوناری، نادر کناسرو ڈائریکٹر ویجیلنس، محمد طاہر ڈائریکٹر آڈٹ’ عامر عطا ڈائریکٹر فنانس، مجیب صدیقی ڈپٹی ڈائریکٹر، شاہد علی میمن سوشل سیکورٹی آفیسر، میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ولیکا اسپتال ڈاکٹر ممتاز شیخ، نوشاد اکاؤنٹس آفیسر، صدیق کیشئر اور ڈاکٹر تنویر قادر خانزادہ ڈپٹی ڈائریکٹر پروکیورمنٹ و دیگر متعلقہ افسران کے خلاف شامل ہیں۔
اس موقع پر سندھ سوشل سیکورٹی کے ڈائریکٹر ویجیلنس اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے اور درخواست کی کہ انھیں بھی اس کیس میں انٹرونر بننے کی اجازت دی جائے عدالت نے ان کی یہ استدعا مسترد کردی۔ اور انٹی کرپشن کے افسران کو پاپند کیا کہ وہ 12 ستمبر 2023 کو آئندہ سماعت کے موقع پر عدالت کو اس کیس میں ہونے والی مزید پیش رفت سے آگاہ کریں۔
یاد رہے کہ سوشل سیکورٹی میں فیکٹریوں، شوگر ملوں کے اڈٹ میں کرپشن، پروکیومنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ٹینڈرز سمیت اسپتالوں کی ادویات اور فنڈ میں کرپشن، سیسی میں ملازمین کی غیر قانونی بھرتیوں میں کرپش اور اقراء باپروری کی سمیت دیگر اہم معلومات کی تحقیقات انٹی کرپشن کے قابل اور ایماندار افسر عبدالحفیظ جتوئی کررہے تھے اور انھوں نے اس سلسلے میں ماہ مئی میں انھوں نے ڈائریکٹر انٹی کرپش کی باقاعدہ اجازت سے سیسی ہیڈ آفس پر چھاپہ مار کر کرپشن کے حوالے سے اہم ریکارڈ حاصل کیا تھا۔ جسے اگلے روز ہی سیسی افسران کو واپس کردیا گیا تھا اور جیسے ہی چیف سیکرٹری سندھ نے اس اسکینڈل کی اوپن انکوائری کی باقاعدہ اجازت دی اس کے دوسرے روز ہی سیاسی دباؤ پر عبدالحفیظ کا محکمہ انٹی کرپش سندھ سے ہی تبادلہ کردیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *