My Trade Union

پینشن میں 1500 روپے کا اضافہ مایوس کن ہے۔ متین خان
URDU

پینشن میں 1500 روپے کا اضافہ مایوس کن ہے۔ متین خان

Aug 28, 2023

ایپوا کے سینٸر ناٸب صدر متین خان کا نگران وزیر اعظم کے نام کھلا خط

جناب وذیر اعظم صاحب

ہم پانچ لاکھ بوڑھے ای او بی آٸی پنشنرز پاکستان کے ہی شہری ہیں ملک کا واحدامیرترین ادارہ ای او بی آٸی جو محنت کشوں نے اپنی جمع پونجی سے بنایا ہے اسکا نقد سرمایہ ساڑھے چارسوارب سے ذاٸد اور اربوں کے اثاثے ہیں۔ یہ اپنی ذمہ داری نبھا نے میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے اس ٹرسٹ کا بنیادی مقصد انشورڈ پرسنز اور پنشنرز کی فلاح کو مدنظر رکھنا ہے یہ صرف اپنے ملازمین کو کس طرح اور کتنا زیادہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں لیکن بوڑھے پنشنرز کو مراعات دینے اور مہنگاٸی کے حساب سے پنشن میں اضافہ کرتے وقت انکے فنڈ کم پڑجاتے ہیں ادارے میں کام کرنےوالے ملاذمین کو ہماری ہی جمع پونجی سے کونسی کونسی مراعات ہیں جونہیں دی جارہی ہیں انکی پنشن میں اضافہ ۔ تنخواہ میں اضافہ ۔ حاضر اور ریٹاٸرڈ ملاذمین کو طبی مراعات کے مد میں کررڑوں روپے خرچ کیۓ جارہے ہیں ۔ اس ادارے کے ریٹاٸرڈ ملاذمین کو 10ہزار سے 60 ہزار پنشن دی جارہی ہے لگتا یے ہم معماروطن نے اپنی خون پسینے کی کماٸی سے یہ ادارہ انکی عیاشی کے لیٸے بنایا ہے ہیاں تک انکو کار لون بھی دیا جارہے لیکن ہماری پنشن میں اضافے کے لیٸے ایکچوری کی کنڈیشن لگادی ہے ۔ جلد بازی میں دسمبر 2022 کو آئیکچوری کیلئے ٹینڈر طلب کیا گیا اس کے بعد سے آج تک ادارہ اس پر مجرمانہ غفلت برتنے کے سواکچھ نہیں کیا ۔ یہ ادارہ ہے تو سونے کا انڈا دینے والی چڑیا لیکن صرف ملازمین کیلئے انہیں بوڑھے پنشنرز سے کوئی غرض نہیں ہے۔جولائی 2023 سے نا قابل قبول 1500روپے اضافہ اس کمر توڑ مہنگاٸی میں معاشی قتل ہے ۔ انہیں خدا کا خوف تک نہیں کہ غریب پنشنرز 10000 قلیل سی رقم میں کس طرح زندگی گزار ینگے بڑھاپے کی وجہ سے اکثریت مہلک بیماریوں ہمیں جو علاج معالجہ نہیں کراسکتے انھیں غربت کی لکیر سے نیچے ذندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہا ۔ چونکہ اس وقت ملک میں معاشی بحران اورکمر توڑ مہنگاٸی میں جینا مشکل ہوگیا ہے جبکہ ای اوبی آٸی کے مطابق اس سال 543000 انشورڈپرسن کا اضافہ ہوا ہے انکا کنڑیبیوشن 1500 روپے فی انشورڈ پرسن لیا جاۓ تو سالانہ 9ارب 70 کروڑ کا اضافہ ہوا ہے آمدن کے حساب سے ہماری پنشن میں 10000 روپے کا اضافہ کرے تو ادارے پر کوٸی بوجھ نہیں پڑے گا لیکن ای او بی انتظامیہ بےحس ہوچکی ہےBOT اپنی افادیت کھو چکا ہےلگتا ہے یہ بورڈ بھی ادارے کے ملاذمین کے لیٸے بنایا گیا ہے یہ بورڈ 2013 میں دوسال کے لیٸے تشکیل دیا تھا معیاد ختم ہونے باوجود اب تک قاٸم ہےاس بورڈ کے اراکین میں اتنی جرات نہیں کہ پوچھ سکیں کہ ۔ آمدن اخراجات کے گوشوارے کیوں خفیہ رکھے ہوئے ہیں کیا اس لیٸے کہ ان کے گورکھ دھندے اور کرپشن دنیا کی نظروں سے پوشیدہ رہ سکے ۔ اور یہ اپنی من مانی کرتے رہیں اور پنشن میں اضافہ نہیں کریں ۔ ایپوا کا مطالبہ ہے BOT کو جلد تشکیل کیا جاۓ اور پنشرز کے حقیقی نماٸندوں کو نماٸندگی دی جاۓ اورکہ ادارے سےکرپشن کا خاتمہ اور پنشن میں اضافہ مہنگاٸی کے مطابق فوری طور پر 25000 روپے کرکے ملک کےمعمار وطن پانچ لاکھ ای اوبی آٸی پنشنرز کو معاشی قتل سے بچایا جاۓ اسکے علاوہ پاکستان اسٹیل اور شپ یارڈ اور نیشنل ریفاٸرنری۔ مشین ٹول فیکڑی نے اپنے ریٹاٸرڈ ملاذمین کی EOBI کے 2016 کے سرکلر کے مطابق اداٸیگی کی ہے انکی پنشن ریواٸز کرکے انکو انکے بقایاجات اداٸیگی جلد کیجاۓ۔ ہمیں آپ سے بھرپور اُمید ہے کہ جلد اذ جلد ہماری پنشن 25 ہزار کے احکامات صادر فرماٸنگے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *