My Trade Union

محکمہ محنت غیر ضروری تقرریوں اور تبادلوں کو روک دے ۔ نگران وزیر اعلیٰ کے احکامات
URDU

محکمہ محنت غیر ضروری تقرریوں اور تبادلوں کو روک دے ۔ نگران وزیر اعلیٰ کے احکامات

Oct 22, 2023

کراچی (ٹریڈ یونین) نگران وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس ریٹاٸرڈ مقبول باقر نے محکمہ محنت کو غیر ضروری تقرریوں اور تبادلوں سے روکتے ہوٸے اداروں میں کم از کم تنخواہ 32000 روپے کی اداٸیگی پر عمل درآمد کرانے کی ہدایت کی ہے ۔ گذشتہ روز پاکستان انسٹیٹوٹ آف لیبر ایجوکشن اینڈ ریسرچ کے29 رکنی نے نگران وزیر اعلیٰ جسٹس ر مقبول باقر نے کی جس کی قیادت پاٸلر کے ایگزیٹیو ڈاٸریکٹر کرامت علی کر رہے تھے۔ وزیر اعلی سندھ کو وفد نے محنت کشوں کے مساٸل سے آگاہ کرتے ہوٸے بتاتا کہ محکمہ محنت میں مسلسل تقرری اور تبادلےسے مزدوروں کے فلاح وبہبود کے کام متاثر ہورہے ہیں۔ کم از کم اجرت پر عمل درآمد نہیں ہورہا ۔وزیر اعلیٰ کو صنعتی اداروں میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک سے بھی آگاہ کرتے ہوٸے بتایا گیا کہ خواتین کو 45 سال کی عمر میں ہی ملازمت سے فارغ کردیا جاتا ہے ۔خواتین کو مرد ورکرز کے مقابلے میں کم تنخواہ دی جاتی ہے۔انھیں بتایا گیا کہ محکمہ سیسی میں صنعتی ادارے کم رجسٹرڈ ہیں ۔ وزیر اعلی نے تمام شکایات کا نوٹس لیتے ہوٸے کہا کہ وہ خواتین رکرز کے معاملات پر خود نجی اداروں کا سرپراٸز دورہ کریں گے۔انھوں نے سندھ پبلک سروس کمیشن کو محکمہ محنت میں بھرتیوں کا عمل تیز کرنے کی ہدایت بھی کی ۔وزیر اعلی ٰ نے سیسی کو ہدایت کی کہ وہ ای او بی آٸی سے صنعتی اداروں کی رجسٹریشن کا ریکارڈ ریکنساٸل کریں ۔انھوں نے چاٸلڈ لیبر کے خاتمے پر بھی زور دیا۔ وزیر اعلیٰ نے اسٹیل مل لیبر کالونی کی زمین پر قبضے ختم کرانے کے لیے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت جاری کیں۔ وزیر اعلی نے ڈی سی کورنگی کو حکم دیا کہ دو گھنٹے میں ٹینکر مافیا کے خلاف کاررواٸی عمل میں لاٸی جاٸے۔وزیر اعلی نے کہا کہ ورکرز ویلفیٸر بورڈ سے مزدوروں کی گرانٹ کسی صورت بند نہیں ہونا چاہیے۔وزیر اعلیٰ نے ہوم بیسڈ انڈسٹریل یونٹس کی لسٹ تیار کرنے کی بھی ہدایت جاری کردی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *