My Trade Union

سیسی،20 کروڑ کا بجٹ ، 15 مریضوں کا ڈاٸیلیسیز، ممبر گورننگ باڈی مختار اعوان نے سب کا چھٹا کھول دیا۔
URDU

سیسی،20 کروڑ کا بجٹ ، 15 مریضوں کا ڈاٸیلیسیز، ممبر گورننگ باڈی مختار اعوان نے سب کا چھٹا کھول دیا۔

Oct 26, 2023

کراچی (رپورٹ شاہد غزالی)    متحدہ لیبر فیڈریشن اور آر بی پاک کے سیکریٹری جنرل اور سیسی گورننگ باڈی کے رکن مختار حسین اعوان نے سیسی کی ناقص کارکردگی کا بھانڈا پھوڑ دیا ۔انھوں نے گذشتہ روز سیکریٹری لیبر شارق احمد کو ایک خط کے ذریعے سندھ ایمپلاٸیز سوشل سیکورٹی انسٹیٹویشن میں ہونے والی بے قاعدگیوں سے آگاہ کرتے ہوٸے مطالبہ کیا کہ سیسی کے معاملات کو بہتر کیا جاٸے گذشتہ روز ہونے والے اجلاس میں بھی مختار حسین اعوان کے خط کو اراکین میں تقسیم کیا گیا جس پر ممبران ششدد رہ گٸے سیکریٹری لیبر کا بھی کہنا تھا کہ ان معاملات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے ۔خط کا متن مندرجہ ذیل ہے۔

محترم شارق احمد
سیکرٹری محنت
گورنمنٹ آف سندھ

اسلام علیکم

نفس مضمون ۔ سیسی میں بدانتظامی کے سنگین معاملات پر فوری کاروائی کی ضرورت میں جنرل سیکرٹری متحدہ لیبر فیڈریشن اور ممبر گورننگ باڈی ہونے کے ناطے چند انتہائی اہم نکات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہے۔ موجودہ گورننگ باڈی کو تشکیل ہوے تقریباً 3 ماہ ہونے والے ہیں۔ لیکن ابھی تک ابتدائی کام نہیں ہوسکا اور جو بنیادی کمیٹیاں ہم نے بطور ممبران گورننگ باڈی بنانی تھی وہ اب تک نہیں بن سکی ہیں اور اسی طرح تعارفی اجلاس کے علاؤہ ابھی تک سیسی کی گورننگ باڈی کا اجلاس طلب نہیں کیا گیا۔ جب کہ سیسی کی انتظامی صورتحال بہت خراب ہے۔ جہاں محکمہ انٹی کرپشن اور نیب مختلف کرپشن کے اسکنڈل کی تحقیقات کررہی ہے وہیں الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا بلکہ محنت کشوں کی نمائندہ تنظمیں بھی ادارے کی خراب کارکردگی پر مسلسل آواز اٹھا رہی ہیں۔ ان معاملات کو حل کرنے کے لیے گورننگ باڈی سیسی کا فوری طور پر بامقصد اجلاس ہونا بہت ضروری ہے۔ جس میں ان بنیادی معاملات کو بطور ایجنڈا رکھا جائے۔

سیسی کڈنی سینٹر لانڈھی پر ہونے والے اخراجات اور وہاں علاج و معالجہ کے آنے والے محنت کشوں کا مکمل ریکارڈ پیش کیا جائے۔ کیونکہ ہماری اطلاعات کے مطابق وہاں صرف 15 رجسٹرڈ محنت کشوں کا ڈائیلیسزز ہورہا ہے۔ جب کہ او پی ڈی میں بھی بامشکل 25/30 مریض آتے ہیں، جب کہ وہاں کا 20 کڑوڑ روپے سالانہ بجٹ ہے۔ کڈنی سینٹر کی کارکردگی اور اس کے مستقبل کے متعلق ورکنگ پیپر گورننگ باڈی میں رکھا جائے، کیونکہ محنت کشوں کو قیمتی کنٹری بیوشن یہاں ضائع ہورہا ہے۔
سندھ سوشل سیکورٹی میں زیر استعمال گاڑیوں اور پیٹرول کی مکمل تفصیلات بھی پیش کی جائیں کیونکہ حکومت سندھ کی جانب سے اخراجات میں کمی کے حوالے سے پالیسی کو فالو نہیں کیا جارہا ہے۔ محنت کشوں کے فنڈ سے مہنگی اور غیر ضروری گاڑیاں خریدی جاتی رہیں ہیں جس میں فرچونر جیسی انتہائی مہنگی گاڑیاں تک شامل ہیں۔ اسی طرح کڑوڑوں روپیہ پیٹرول کی مد خرچ کیا جارہا ہے۔ ہماری اطلاع کے مطابق سابق کمشنر اختر علی قریشی نے تحریری طور پر ٹرانسپورٹ سیکشن کو اس حوالے سے پالیسی کی منظوری کے لیے یہ معاملہ گورننگ باڈی سیسی رکھنے کا کہا تھا جس پر تا حال عمل نہیں ہوا ہے۔ اس لیے ایک ورکنگ پیپر گاڑیوں اور پیٹرول کے استعمال کے حوالے سے رکھا جائے جس میں نا صرف اخراجات کی مکمل تفصیل بلکہ ساتھ ہی ان میں کمی کے حوالے سے مثبت تجاویز بھی پیش کی جائیں۔تحفظ یافتہ محنت کشوں کو سیسی کے اسپتالوں میں علاج و معالجہ اور بلخصوص ادویات کی فراہمی میں جن مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے لیے گورننگ باڈی ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دیجائے جو گراؤنڈ پر نا صرف مسائل کو دیکھے بلکہ ان کے مستقل حل کے لیے ایک بہتر طریقہ کار بھی واضح کرے

سوشل سیکورٹی ایکٹ میں تبدیلی ہونے کے باوجود تا حال ہوم بیسڈ ورکرز اور سیلف ایمپلائز رجسٹریشن پر کام نہیں ہوا ہے، اس پر فوری طور عملدرآمد شروع کرتے ہوئے ان کی رجسٹریشن کا آغاز کیا جاے،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *