My Trade Union

(مہنگائی مخالف عوامی ریلی… جدوجہد کا غاز مزدوروں رہنماوں کا اعلان)
URDU

(مہنگائی مخالف عوامی ریلی… جدوجہد کا غاز مزدوروں رہنماوں کا اعلان)

Nov 19, 2023

کراچی ( ٹریڈ یونین) نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان، ھوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن ، نوجوانوں کی تنظیم آلٹرنیٹ اور شہری عوامی محاذ کے زیر اہتمام مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی ، بے روزگاری اور غربت کے خلاف “مہنگائی مخالف عوامی ریلی” ریگل چوک تا پریس کلب تک نکالی گئی جس کی قیادت کامریڈ گل رحمان ، زہرا خان اور عاقب حسین کر رہے تھے جس میں ھزاروں محنت کش نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء مہنگائی ، اشیاء خودرنوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے خلاف نعرے لگاتے آئی ایم ایف اور مہنگائی کے علامتی پتلے بھی نذر آتش کئے گئے۔ ریلی کے شرکاء نے غزہ سے اظہار یک جہتی کے لیے آزاد فلسطین کے پرچم بھی اٹھا رکھےتھے
ریلی میں خطاب کرتے مزدور رہنماوں کا کہنا تھا کہ عوام کا بڑا مسئلہ مہنگائی ، بےروزگاری اور بڑھتی ہوئی غربت ہے جس سے نجات کا پروگرام پیش کرنے میں تمام جماعت ناکام ہو چکی ہیں۔ حکم رانوں کی ناعاقبت اندیش پالیسیوں کی وجہ سے 78 فی صد ملکہ آبادی یعنی انیس کروڑ انسان غربت کی دھلیز پر جانوروں سی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ، عمومی مہنگائی کی شرح چالیس فیصد جب کہ اشیاء خودرونوش کی قیمتوں میں پچاس تا ساٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے ، پاکستان جنوبی ایشیاء میں فی کس آمدنی کے لحاظ سے سب سے نیچے اور مہنگائی میں سب سے اوپر ہے، روپےکی قدر میں کمی کی وجہ سے شہریوں کی حقیقی آمدنی نصف اور قوت خرید نہ ہونےکے برابر رہ گئی ہے، پیٹرولیم مصنوعات ، گیس اور بجلی کےنرخوں میں اضافہ زندگیوں میں زہر گھول رہا ہے اور صنعتی پیداواری عمل کو مفلوج بنا رہا ہے۔ بے روزگاری ، غربت اور بڑھتی مہنگائی کے عفریت نے ذہنی امراض اور خود کشیوں کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
حکمرانوں نے پاکستان کو آئی ایم ایف کی مفتوحہ ریاست بنادیا ہے اور خود وائسرے کے طور کام کر رہے ہیں ۔ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے آج پاکستان دنیا کا پانچوں اور جنوبی ایشیاء کا سب سے زیادہ مقروض ملک بن گیا ہے۔
موجودہ بحران سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اپنی قیادت میں خود کو منظم کریں اور اپنی معاشی اور سیاسی آزادی کے لیے انقلابی چارٹر کا اعلان کرتے ہوئے فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز کریں ۔
ریلی میں مطالبہ کیا گیا کہ ۱۔ کم از کم اجرت پچاس ہزار کی جائے۔ اور اس کا اطلاق تمام شعبوں بشمول زراعت پر بھی ہونا چاہیے۔ ۲۔ تمام شہریوں کو سوشل سیکورٹی کی فراہمی کی جائے ۔ ۳۔ اشیاء خود ونوش ، ادویات، ٹرانسپورٹ کے لئے ریاستی سبسیڈی بحال کی جائے۔ ۴۔ تین سو یونٹسز تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو رعایت دی جائے۔ ۵۔ دفاعی و دیگر غیر پیداواری بشمول صوبائی و وفاقی انتظامی اخراجات کو موجودہ سطح پر کم ازکم دس سال کے منجمد کر دیا جائے۔ ۶۔ ایکس پورٹ انڈسٹری کو ارزاں توانائی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ۷۔ ہندوستان سے تجارتی ، سفارتی و ثقافتی تعلقات کو ممکنہ استعداد تک فروغ دیا جائے ، باہمی تجارت 37 ارب ڈالرز سالانہ تک بڑھنے کی گنجائش موجود ہے ۔ ۸۔ سولر ، ونڈ اور توانائی کے متبادل ذرائع پر جنگی بنیادوں پر کام کیا جائے۔ ہر گھرانے کو سولر پینل کے لیے بلا سود قرضہ دے۔۹۔ تمام مسلح مذہبی گروہوں پر پابندی عائد کی جائے اور ریاستی پشت پناہی کی پالیسی کو ترک کی جائے۔ ۱۰۔ انتخابی اصلاحات کی جائیں اور اسمبلیوں میں طبقاتی تناسب سے نمائندگی دی جائے۔۱۱۔سندھ میں آبادی کے تناسب کو منصوبہ بند طریقے سے تبدیل کرنے کے عمل کو روکا جائے۔ ۱۲۔ غیر حاضر زمین داری ختم کی جائے۔ ۱۳۔ ۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نبردآما ہونے کے لئے اقدامات کئے جائیں ۔۱۴۔ بلدیہ متاثرین کے لیے جرمن برانڈ کی جانب سے دی گئی معاوضہ کی سوا ارب روپے
سے زائد رقم متاثرین کی مشاورت کے بغیر انشورنس کمپنی کے حوالے کرنے کے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے غیر شفاف عمل قابل مذمت ہے ، آئی ایل او اور انشورنس کمپنی کے درمیان ہونے والے خفیہ معاہدے کو متاثرین سے شیئر کیا جائے۔ ۱۵۔پبلک اداروں کی نج کاری کا عمل روکا جائے۔ ۱۶۔ شپ یارڈ اور دیگر اداروں میں یونین سازی کا حق بحال کیا جائے ، ٹھیکہ داری نظام ختم کیا جائے۔ جبری برطرفیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔۱۷۔ گھر مزدوروں، ہاریوں کو سوشل سیکورٹی اور پینشن کے ادارے سے رجسٹرڈ کیا جائے۔۱۸۔ ھوم بیسڈ ورکرز کی طرح ڈومیسٹک ورکرز کو قانون کے دائرے میں لایا جائے۔
ریلی کے شرکاء اسد اقبال بٹ،ناصر منصور، رمضان میمن ،رفیق بلوچ، ڈاکٹر ریاض شیخ، خالد زدران، واحد بلوچ، نزہت شرین ، کامڑید سلطان، ، ریاض عباسی، کامریڈ جنت ، سعید بلوچ ، قاضی خضر، کامریڈ کلثوم ، اکرم بلوچ، کامی سیڈ ، فائزہ صدیقی، اقبال ابڑو ، سائرہ فیروز، ہمت علی ، سائرہ خان، پروین بونو، عینی یوسف ، احسن محمدودایڈوکیٹ ، نورالدین ایڈوکیٹ ، بلاول خان ،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *