My Trade Union

آٸی ایل او نہ ہوتی تو ملک میں ٹریڈ یونین پر پابندی لگ چکی ہوتی۔ ظہور اعوان
URDU

آٸی ایل او نہ ہوتی تو ملک میں ٹریڈ یونین پر پابندی لگ چکی ہوتی۔ ظہور اعوان

Dec 8, 2023

انٹرویو۔۔ ریاض عاجز اسلام آباد۔…  ۔پاکستان ورکرز فیڈریشن کے رہنما اور آٸی ایل او میں پاکستان کے نماٸندے ظہوراعوان نے ملک میں مزدوروں کی حالت زار اور ٹریڈ یونینوں کی بد حالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوٸے کہا ہے کہ پاکستان میں کوٸی حکمران محنت کشوں سے مخلص نہیں رہا۔ اگر آٸی ایل او جیسے ادارے کا وجود نہ ہوتا تو پاکستان میں ٹریڈ یونین پر کب کی پابندی لگ چکی ہوتی۔ وہ گذشتہ روز فاٸن ٹی وی کے چیف ایگزیکٹو اور ہفت روزہ ٹریڈ یونین پاکستان کے ایڈیٹر ریاض عاجز سے ایک انٹرویو کے دوران اظہار خیال کر رہے تھے۔ ظہور اعوان نے ملک میں ٹریڈ یونین کی بد حالی کی وجہ ٹھیکیداری نظام کو قرار دیا کیونکہ ٹھیکیداری نظام نے ٹریڈ یونین کو کمزور کیا ہے بڑے بڑے اداروں میں جہاں 2000 ملازم ہیں وہاں مستقل ملازم کی تعداد 100 یا200 ہوگی۔ جن اداروں میں یونین ہوتی ہے وہاں مزدور لیبر قوانین کے تحت اپنے حقوق حاصل کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں رجسٹرڈ یونین کی تعداد بہت کم ہے جبکہ یورپ کے اکثر ممالک ایسے ہیں جن میں ٹریڈ یونین کی تعداد 70 سے 80 فیصد ہے وہ ملک ترقی یافتہ ہیں اور ہمارے پاس یہ تصور ہے کہ ٹریڈ یونین سے ملک کہ معیشت کو نقصان ہوتا ہے ۔انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہماری پارلیمینٹ میں اشرافیہ ہوتی ہے جن کو غریب مزدور سے کوٸی لینا دینا نہیں ہوتا انھوں نے کہا کہ جب سے ٹریڈ یونین میں سیاسی جماعتوں کی مداخلت ہوٸی وہاں محنت کشوں اور ٹریڈ یونین میں تقسیم ہوٸی اور کرپشن میں اضافہ ہوا۔ انھوں نے کہا کہ محنت کشوں کو متحد کرنے کے لیے مسلسل کام کررہے ہیں ۔ سن 2005 سے قبل ملک میں پانچ بڑی مزدور فیڈریشن تھیں ان میں سے تین نے متحد ہو کر پاکستان ورکرز فیڈریشن بناٸی ۔ ابھی متحدہ لیبر فیڈریشن اور نیشنل لیبر فیڈریشن علحیدہ حیثیت میں کام کر رہی ہیں ۔دونوں فیڈریشن سے ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں ۔ انھوں نے شکوہ کیا کہ میڈیا محنت کشوں کی سرگرمیوں اور مساٸل کو اجاگر نہیں کرتا حالانکہ وہ بھی ہمارے ساتھی ہیں جبکہ لیبر کورٹ اور محکمہ محنت کے ادارے محنت کشوں کو انکا جاٸز حق بھی نہیں دیتے ۔ انھوں نے کہا کہ ٹریڈ یونین ہی بہترین ڈیمو کریسی ہے جہاں محنت کش منظم ہو کر یونین بناتا ہے اپنے نماٸندوں کا چناو کرتا ہے اور پھر اجتماعی سودا کار ایجنٹ بن کر مزدوروں کے حقوق کے لیے کوششیں کرتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں عدل کا نظام بہتر ہو جاٸے تو ٹریڈ یونین سمیت سارے معاملات بہتر ہوسکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *