My Trade Union

سندھ سوشل سیکورٹی کے کرپٹ افسران کے خلاف نیب کی بڑی کاروائی
URDU

سندھ سوشل سیکورٹی کے کرپٹ افسران کے خلاف نیب کی بڑی کاروائی

Jan 10, 2024

نیب نے ایک ارب تیس کروڑ سے زائد کی کرپشن کے الزامات میں باقاعدہ انکوائری کا آغاز کردیا

کمشنر سوشل سیکورٹی سلیم رضا کھوڑو سے 2016 سے 2022 تک کی تمام خریداری کا ریکارڈ طلب کرلیا گیا

کراچی (رپورٹ شاہد غزالی) نیب نے محکمہ محنت کے ذیلی ادارے سندھ سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن میں ایک ارب تیس کروڑ سے زائد کی کرپشن پر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ سندھ سوشل سیکورٹی میں ماضی میں COVID 19 کے دوران 65 زائد انتہائی مہنگے وینٹیلیٹر سمیت دیگر آلات و سامان کی خریداری میں ایک ارب سے زائد کی رقم خرچ کئی گئی تھی۔
سیسی گورننگ باڈی کی پرچیز کمیٹی کے ممبران ناصر منصور اور کرامت علی نے اس غیر ضروری خریداری پر سنجیدہ سوالات اٹھائے تھے جس کے جوابات اس کے وقت کے ڈائریکٹر پروکیورمنٹ نہ دے سکے جس کی وجہ سے تا حال اس خریداری کی پرچیز کمیٹی سے اپرول نہیں ہو سکی ہے۔
اسی طرح کورنگی انڈسٹریل ایریا میں قائم ایک مشہور گارمنٹ فیکٹری جس میں 10 ہزار سے زائد محنت کش کام کرتے ہیں اس میں سیسی کے ویجلنس اینڈ سروے ڈیپارٹمنٹ نے سیلف اسیسمنٹ کے نام پر 10 کڑوڑ سے زائد روپے سیسی کنٹری بیوشن کی مد میں وصول نہیں اور کمپنی کو غیر قانونی پر طور آڈٹ رپورٹ جاری کردی گئی تھی۔ اس آڈٹ کی تمام تفصیلات طلب کی گئی ہیں
نیب نے‏ ان معاملات کے علاؤہ کمشنر سیسی سلیم رضا کھوڑو سے سندھ سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کے تحت چلنے والے ہسپتالوں میں 2016 سے 2022 کے درمیان خریداری گئی ادویات، وینٹی لیٹرز، طبی آلات، ڈسپوزایبل آئٹم، قابل استعمال اشیاء، فرنیچر، ایکس رے فلمیں، لیبارٹری کا سامان، ریڈیولاجی کا سامان، ہسپتال کے لیے فکسچر، کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس کی مد میں کئے گئے تمام اخراجات اور حوالے سے پروکیورمنٹ و ٹینڈرز کی تفصیلات کی فراہم کرنے کا کہا ہے،

بلخصوص SESSI ہسپتالوں کے لیے COVID-19 کے دوران 65 کے قریب انتہائی مہنگے وینٹی لیٹرز کی خریداری کی تفصیلات۔
اور ان کی‏ پروکیورمنٹ کا طریقہ کار جو اختیار کیا گیا (ٹینڈر، کوٹیشن وغیرہ)
اس کے ساتھ خریدے گئے وینٹی لیٹر کی قیمت اور تفصیلات (برانڈ کا نام، اصل، مینوفیکچرنگ سال، درآمد شدہ/مقامی، تصدیق شدہ، آؤٹ پٹ/کارکردگی وغیرہ) کی تفصیلات وغیرہ بھی مانگی ہیں
یاد رہے کہ ان تمام الزامات پر گذشتہ سال چیف سیکرٹری سندھ نے محکمہ انٹی کرپش کو اوپن انکوائری کی باقاعدہ منظوری دیتے ہوئے اس کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی، لیکن محکمہ انٹی کرپشن اس تمام معاملہ کی شفاف انکوائری کو تا حال مکمل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے، جس میں سابق صوبائی وزیر محنت سعید غنی کے کوآرڈینیٹر محمد خان ابڑو، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن زاہد بٹ، ڈائریکٹر ویجیلنس نادر کناسرو، ڈائریکٹر پروکیومنٹ سعادت میمن, ڈائریکٹر آڈٹ محمد طاہر، سابق میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر ممتاز شیخ اور ڈاکٹر شاہ محمد نوناری سمیت دیگر کئی افسران شامل ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *